تحاریر کا خوبصورت مجموعہ

Historical لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Historical لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 29 اگست، 2020

نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں | Naseer Asmad Urdu Articles | نصیر اصمد اردو آرٹیکلز

نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

مصنف: نصیراصمد۔ بلاگر اورکونٹینٹ رائٹر ہیں۔

Author: Naseer Asmad

Naseer Asmad Urdu Article  نصیر اصمد اردو آرٹیکلز، سمرقند، حوصلہ افزائی،, SamarQand
Naseer Asmad Urdu Articles
عمر بن عبدالعزیز کادور چل رہا تھا۔قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا، اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبہ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک قاصد کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔


نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں | Naseer Asmad Urdu Articles ASMAD URDU ARTICLES WRITER AND COLUMINST,JAVED CHAUDHARY, HAMID MIR، نصیر اصمد آردو آرٹکیلز
Naseer Asmad Urdu Articles

 قاصد نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ اس نے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے، تو نماز نہیں پڑھتا کیا؟ قاصدنے کہا نہیں، میں اہلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔ قاصد لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے حاکم کے گھر جا پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا، اٹھا کر اسے دے رہی ہے۔ قاصد جس راستے سے آیا تھا واپس اسی راستے سے ان لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اسے راستہ بتایا تھا۔ اس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا، ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔


قاصد نے بے دلی سے دوبارہ اسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔ میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا قاصد ہوں کہہ کر اس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دیدیا۔ اس شخص نے خط پڑھ کر اسی خط کی پشت پر ہی لکھا: عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔ قاصد وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے، کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی، خط تو اسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے انہیں شکایت تھی، انہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ مگر پھر بھی خط لیکر مجبوراََ اس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔ حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔موقع پر ہی عدالت لگ گئی، ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔قاضی نے سمرقندی سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا؟پادری نے کہا: قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟قتیبہ نے کہا: قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا: قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟قتیبہ نے کہا: نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اٹھایا تھا۔قاضی نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔ قتیبہ: اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔ چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اٹھ کر جا رہا تھا۔اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو ویران کر کے جا رہے تھے۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔اور اس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے۔ اپنے پادری کی قیادت میں مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور ان کو واپس لے آئے۔اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔ یہ بھی کیا نظارہ تھا کہ ایک فاتح لشکر اصولوں کی خاطر مفتوحہ شہر چھوڑ کر جارہا تھا۔


اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر  تیرے تخیّل سے  فز وں تر  ہے  وہ نظّارا


نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں | Naseer Asmad Urdu Articles ASMAD URDU ARTICLES WRITER AND COLUMINST,JAVED CHAUDHARY, HAMID MIR، نصیر اصمد آردو آرٹکیلز
Naseer Asmad Urdu Articles

اصول پسندی اور راست روی نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔آج ہم اگر اپنی روش اور طور طریقوں پر نگاہ دوڑائیں تو اصول پسندی اور راست روی کا فقدان نظر آتا ہے۔روایات اور اعلیٰ اقدار، قصہ پارینہ دکھائی دیتے ہیں۔بے اصولی، بے راہ روی، اور راست روی سے ہم قطع تعلق کرچکے۔اب ہمارے دلوں میں نہ وہ سوز ہے، نہ وہ گداز ہے اور نہ وہ عشق ہے۔ دل اور روح ، تڑپ اور حرارت سے خالی ہیں۔


نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی،  نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

ایسی صورتحال میں عظمتِ رفتہ کی بحالی کے خواب، چہ معنی دارد۔ہمارے دین نے ترقی وسر بلندی کیلئے ہمیں ایک مکمل ضابطہِ حیات دیا ہے۔یہ ضابطہِ حیات ہماری زندگی کے باریک سے باریک نکات کا بھی عمیق گہرائی سے احاطہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ چرند، پرند، نباتات، جمادات اور حیوانات کے معاملات تک کے بارے میں ہمیں رہنمائی اور آگہی دی گئی ہے۔ 

حضور ِ اکرم نے جانوروں کے ماحول کے تحفظ کے زیر مقصداصولوں پر کاربند رہنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ انہیں کسی قسم کی تکلیف اور گزند نہ پہنچانے کا بھی حکم فرمایا اور ان کی خصوصیات اور بساط کے مطابق انہیں استعمال کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے جانوروں پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع کیا ہے آپ نے بلا وجہ جانوروں کا شکار نہ کرنے کی بھی تلقین کی ۔ا نسانوں کے ساتھ ایک ہی ماحول میں زندگی بسر کرنے والے جانوروں کا تحفظ بھی ہمارا فریضہ ہے۔ رسول اکرم نے جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کو بڑی اہمیت دی۔آپ نے فرمایا کہ غیر ضروری طور پر کسی چڑیا کو بھی مارنے والا روز محشر کو اللہ تعالی کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ آپ نے پرندوں کے گھونسلوں کو بھی تباہ نہ کرنے اور ان کے انڈوں کو نہ چھیڑنے کی بھی تلقین فرمائی۔


دین اسلام لوگوں کو اپنی اور ارد گرد کی صفائی کا حکم دیتا ہے اور راستوں پر انسانوں کو نقصان پہنچا سکنے والی چیزوں کو ہٹانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے ایمان کا ایک بنیادی جزو قرار دیتا ہے۔ فضول خرچی کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ حتی وضو کرتے وقت بھی پانی کا زیادہ استعمال نہ کرنے کا حکم ہے۔ نبی اکرم کی طرف سے ماحولیات کے حوالے سے عادات کو اخلاقی زمرے کی ماہیت دی گئی اور آپ نے بذاتِ خود بھی اس موضوع پر کئی ایک سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت محمد نے مدینہ منورہ پہنچتے ہی علاقے کو حرم کا علاقہ اعلان کرتے ہوئے وہاں پر جڑی بوٹیوں اور درختوں کے کاٹنے کی ممانعت اور جانوروں کو ہلاک کرنے کی پابندی عائد کی ۔


کس نفیس اور عمیق انداز سے زندگی میں پیش آنے والے ہر قسم کے معاملات میں ہمیں رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ضرورت ہمیں سمجھنے اور اپنے اعمال وافعال کو اس ضابطہِ حیات کے تابع کرنے کی ہے۔کیونکہ ترقی، ارتقاءاور عروج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اعمال وافعال کو نطم وضبط اور قواعد کے مطابق ڈھالیں اور راست روی کو شعار بنا کر اوجِ رفتہ کی طرف قدم بڑھائیں۔