تحاریر کا خوبصورت مجموعہ

Motivation لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Motivation لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 29 اگست، 2020

نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں | Naseer Asmad Urdu Articles | نصیر اصمد اردو آرٹیکلز

نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

مصنف: نصیراصمد۔ بلاگر اورکونٹینٹ رائٹر ہیں۔

Author: Naseer Asmad

Naseer Asmad Urdu Article  نصیر اصمد اردو آرٹیکلز، سمرقند، حوصلہ افزائی،, SamarQand
Naseer Asmad Urdu Articles
عمر بن عبدالعزیز کادور چل رہا تھا۔قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا، اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبہ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک قاصد کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔


نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں | Naseer Asmad Urdu Articles ASMAD URDU ARTICLES WRITER AND COLUMINST,JAVED CHAUDHARY, HAMID MIR، نصیر اصمد آردو آرٹکیلز
Naseer Asmad Urdu Articles

 قاصد نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ اس نے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے، تو نماز نہیں پڑھتا کیا؟ قاصدنے کہا نہیں، میں اہلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔ قاصد لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے حاکم کے گھر جا پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا، اٹھا کر اسے دے رہی ہے۔ قاصد جس راستے سے آیا تھا واپس اسی راستے سے ان لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اسے راستہ بتایا تھا۔ اس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا، ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔


قاصد نے بے دلی سے دوبارہ اسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔ میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا قاصد ہوں کہہ کر اس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دیدیا۔ اس شخص نے خط پڑھ کر اسی خط کی پشت پر ہی لکھا: عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔ مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔ قاصد وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے، کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی، خط تو اسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے انہیں شکایت تھی، انہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ مگر پھر بھی خط لیکر مجبوراََ اس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔ حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔موقع پر ہی عدالت لگ گئی، ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔قاضی نے سمرقندی سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا؟پادری نے کہا: قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟قتیبہ نے کہا: قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا: قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟قتیبہ نے کہا: نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اٹھایا تھا۔قاضی نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔ قتیبہ: اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔ چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اٹھ کر جا رہا تھا۔اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو ویران کر کے جا رہے تھے۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔اور اس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے۔ اپنے پادری کی قیادت میں مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور ان کو واپس لے آئے۔اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔ یہ بھی کیا نظارہ تھا کہ ایک فاتح لشکر اصولوں کی خاطر مفتوحہ شہر چھوڑ کر جارہا تھا۔


اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر  تیرے تخیّل سے  فز وں تر  ہے  وہ نظّارا


نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں | Naseer Asmad Urdu Articles ASMAD URDU ARTICLES WRITER AND COLUMINST,JAVED CHAUDHARY, HAMID MIR، نصیر اصمد آردو آرٹکیلز
Naseer Asmad Urdu Articles

اصول پسندی اور راست روی نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔آج ہم اگر اپنی روش اور طور طریقوں پر نگاہ دوڑائیں تو اصول پسندی اور راست روی کا فقدان نظر آتا ہے۔روایات اور اعلیٰ اقدار، قصہ پارینہ دکھائی دیتے ہیں۔بے اصولی، بے راہ روی، اور راست روی سے ہم قطع تعلق کرچکے۔اب ہمارے دلوں میں نہ وہ سوز ہے، نہ وہ گداز ہے اور نہ وہ عشق ہے۔ دل اور روح ، تڑپ اور حرارت سے خالی ہیں۔


نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں وہ تڑپ رہی،  نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

ایسی صورتحال میں عظمتِ رفتہ کی بحالی کے خواب، چہ معنی دارد۔ہمارے دین نے ترقی وسر بلندی کیلئے ہمیں ایک مکمل ضابطہِ حیات دیا ہے۔یہ ضابطہِ حیات ہماری زندگی کے باریک سے باریک نکات کا بھی عمیق گہرائی سے احاطہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ چرند، پرند، نباتات، جمادات اور حیوانات کے معاملات تک کے بارے میں ہمیں رہنمائی اور آگہی دی گئی ہے۔ 

حضور ِ اکرم نے جانوروں کے ماحول کے تحفظ کے زیر مقصداصولوں پر کاربند رہنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ انہیں کسی قسم کی تکلیف اور گزند نہ پہنچانے کا بھی حکم فرمایا اور ان کی خصوصیات اور بساط کے مطابق انہیں استعمال کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے جانوروں پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع کیا ہے آپ نے بلا وجہ جانوروں کا شکار نہ کرنے کی بھی تلقین کی ۔ا نسانوں کے ساتھ ایک ہی ماحول میں زندگی بسر کرنے والے جانوروں کا تحفظ بھی ہمارا فریضہ ہے۔ رسول اکرم نے جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کو بڑی اہمیت دی۔آپ نے فرمایا کہ غیر ضروری طور پر کسی چڑیا کو بھی مارنے والا روز محشر کو اللہ تعالی کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ آپ نے پرندوں کے گھونسلوں کو بھی تباہ نہ کرنے اور ان کے انڈوں کو نہ چھیڑنے کی بھی تلقین فرمائی۔


دین اسلام لوگوں کو اپنی اور ارد گرد کی صفائی کا حکم دیتا ہے اور راستوں پر انسانوں کو نقصان پہنچا سکنے والی چیزوں کو ہٹانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے ایمان کا ایک بنیادی جزو قرار دیتا ہے۔ فضول خرچی کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ حتی وضو کرتے وقت بھی پانی کا زیادہ استعمال نہ کرنے کا حکم ہے۔ نبی اکرم کی طرف سے ماحولیات کے حوالے سے عادات کو اخلاقی زمرے کی ماہیت دی گئی اور آپ نے بذاتِ خود بھی اس موضوع پر کئی ایک سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت محمد نے مدینہ منورہ پہنچتے ہی علاقے کو حرم کا علاقہ اعلان کرتے ہوئے وہاں پر جڑی بوٹیوں اور درختوں کے کاٹنے کی ممانعت اور جانوروں کو ہلاک کرنے کی پابندی عائد کی ۔


کس نفیس اور عمیق انداز سے زندگی میں پیش آنے والے ہر قسم کے معاملات میں ہمیں رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ضرورت ہمیں سمجھنے اور اپنے اعمال وافعال کو اس ضابطہِ حیات کے تابع کرنے کی ہے۔کیونکہ ترقی، ارتقاءاور عروج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اعمال وافعال کو نطم وضبط اور قواعد کے مطابق ڈھالیں اور راست روی کو شعار بنا کر اوجِ رفتہ کی طرف قدم بڑھائیں۔


بدھ، 26 اگست، 2020

زندگی میں حالات، ہمیشہ ہمارے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتے |Naseer Asmad Urdu Articles

زندگی میں حالات، ہمیشہ ہمارے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتے

مصنف: نصیراصمد۔ سائنٹیفک ریسرچر، بلاگر، کالم نگاراورکونٹینٹ رائٹر ہیں۔

Author: Naseer Asmad

Naseer Asmad Urdu Articles نصیر اصمد اُردو آرٹیکلز


کیاآپ کو کبھی ایسا لگتا ہے کہ آپ کی پوری کوشش کے باوجود حالات اُس رخ نہیں چلتے جس طرح آپ نے منصوبہ بندی کی ہوتی ہے۔ کیوں کہ بعض اوقات ا یسا ہوتاہے کہ آپ ترقی کی طرف گامزن ہوتے ہیں کہ اچانک سب کچھ الٹ ہو جاتا ہے اور حالات بدل جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ زندگی کی ایک نہ جھٹلاسکنے والی حقیقت ہے کہ منصوبہ بندی ، حکمت عملی بنانے اور محتاط رہنے میں اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں یا حالات اُلٹ رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ایسی صورت میں ایک ہی چیز ہمارے کام آتی ہے کہ ہم ہمت نہ ہاریں۔ یہ چیز ہمارے ذہنوں میں اچھی طرح راسخ ہونی چاہئیے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ہر قسم کے حالات و واقعات کیلئے تیار رہنا چاہیے کہ زندگی میں خوشگوارادوار بھی آتے ہیںاور سخت حالات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ جگر مرادآبادی کا کہنا ہے:

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں 
وہی   دنیا   بدلتے   جا رہے ہیں 


زندگی میں حالات، ہمیشہ ہمارے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتے |Naseer Asmad Urdu Articles, اردو آرٹیکلز
Naseer Asmad Urdu Articles

زندگی میں حالات، ہمیشہ ہمارے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتے۔ جب حالات اور معاملات ہمارے مطابق نہیں چل رہے ہوتے تومایوس ہونا ایک فطری عمل ہوتا ہے۔معاملات اُلٹ رخ اختیار کرلیتے ہیں لیکن یہ طے کرنا آپ کا کام ہے کہ شاکس یا دھچکے کے بعدآپ کے ردِعمل کا کیا رُخ ہے۔ جب ناکامیوں سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو اس میں دو اقسام کی بنیادی سوچ موجود ہوتی ہے۔ ایک مایوسی کی ذہنیت ہے اور دوسری امید پسند۔ کچھ لوگ ناکامیوں اور مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنے اوپر مایوسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔کامیابی ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو زندگی میں آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا جانتے ہوں۔ محشربدایونی اس بات کو کچھ اس انداز سے بیان کرتے ہیں:

اب ہوائیں ہی  کری ں گی  روشنی کا فیصلہ 
جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا 

جب زندگی میں مایوس کُن حالات کا سامنا ہوتا ہے توامید پسند سوچ رکھنے والافرد وقتی طور پر ایک عارضی شاک یا دھچکا محسوس کرے گا َ۔ جبکہ مایوسی کی ذہنیت رکھنے والا شخص اسے مستقل عمل کے طورپر دیکھے گا۔ کبھی بھی وقتی یاعارضی حالات کی بنیاد پر مستقل فیصلے نہیں لینے چاہئیں۔مایوس ذہنیت والا، مسئلے کو سمجھنے کی بجائے ، اسے ناقابل تسخیر اور ایک مستقل عمل کے طور پر دیکھتا ہے۔ جبکہ ایک خوش خیال انسان کسی برے واقعے اور اس کے اثرات کو الگ تھلگ سمجھنے اور تجزیہ کرنے کے قابل ہوتا ہے ہے اور اپنی زندگی کو اس سے متاثر نہیں ہونے دیتا۔

 مایوس افراد کسی دھچکے یا شاکس کو ایک اپنی داخلی یا ذاتی وجہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک واقعات کا ایک خراب موڑ ان کے اپنے افعال میں کسی نقص یا غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ اسی اپنی کمی یا کوتاہی گردانتے ہیںاور اپنے آپ کو موردِالزام ٹھہراتے ہوئے مایوسی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ جبکہ خوش خیال انسان، صحت مندانہ نظریہ اختیار کرتا ہے کہ ضروری نہیں کہ واقعہ ان کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو ا ہو بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیںیہ بیرونی عوامل کی وجہ سے ہے ۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ شاید جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکنے کے لئے وہ ذاتی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم اپنی غلطیوں سے ہمیشہ سیکھنے کی ضرورت رہتی ہے ۔خود کو پریشانیوں اور ناکامیوں سے دور رکھنا سیکھ لینا ایک ایسی مہارت ہے جو کامیابی اور آپ کے خوابوں کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اگر آپ خود کو پریشانی کا حصہ سمجھتے ہیں تو آپ آسانی سے آپ شاکس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔پریشانی پر آپ اس صورت میں قابو پاسکتے ہیں جب آپ اسے اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ امیدپسند شخص کو نتائج اپنے ذہن کے حساب سے دیکھنے کی صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب معاملات غلط رُخ اختیار کرلیتے ہیں تو آپ کا رویہ واقعہ کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوتا ہے اور یہی فیصلہ کرتا ہے کہ آپ نے اُمید کا راستہ منتخب کیا ہے یا مایوسی کا۔ آپ کی زندگی کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن کا جھکاﺅ اُمید کی طرف ہے یا مایوسی کی طرف ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ان کی اصلاح کی طرف پہلا قدم ہے۔ ایک مثبت رویہ سیکھنا اور اپنے آپ کو حالات کے مطابق تیار کرنا چاہئیے۔ مثبت روّیے کامیابی کی بنیاد ہیں اور زندگی میں کامیابیاں حوصلے بلند کرنے کا سبب ہوتی ہیں۔ بقول ماہرالقادری:

یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں 
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں 

جب حوصلے بلند ہوتے ہیں تو مشکلات کا مقابلہ کرنا آسان ہوجاتاہے کیونکہ بلند حوصلہ انسان کے اندر مثبت ذہنی کیفیات پیدا کرتا ہے۔

آرام پھر کہاں ہے ، جو بے سکوں ہو جائے دل | Naseer Asmad Urdu Articles

آرام پھر کہاں ہے ، جو بے سکوں ہو جائے دل

مصنف: نصیراصمد۔ سائنٹیفک ریسرچر، بلاگر، کالم نگاراورکونٹینٹ رائٹر ہیں۔

Author: Naseer Asmad                                          

Naseer Asmad Urdu Articles نصیر اصمد اُردو آرٹیکلز
Naseer Asmad


بعض اوقات زندگی میں بعض تجربات بہت مایوس کن ثابت
 ہوتے ہیں ۔ ایسا ہونا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ اس کام کے ساتھ کتنی دشواری منسلک ہے اور آپ اپنے آرام کے زون کو چھوڑ کر کتنا دور آگے آئے ہیں ۔ جتنا آپ اپنا آرام کا زون چھوڑ کر آگے آئیں گے اتنا ہی زیادہ آپ کو یہ سب کچھ زیادہ غیر محفوظ ، غیر آرام دہ اور مضحکہ خیز محسوس ہوگا۔ اگر کا م زیادہ مشکل ہو تو ناکامی کی صورت میں آپ کو زیادہ مایوسی ہوگی۔ اس احساس کی وجہ سے ، امکان ہے کہ آپ مستقبل میں اپنے سکون زون سے باہر واقعات میں شاذ و نادر ہی حصہ لیں گے۔ مثال کے طور پر آپ ایک نئی زبان سیکھنے کے کورس میں شامل ہوتے ہیں تو آپ کو اپنے سکون زون سے باہر آکر کام کرناپڑتا ہے۔اپنا آرام و سکوں چھوڑنا پڑتا ہے لیکن اپنے مقصد میں ناکامی کی صورت میں آپ فرسٹریشن بیریئر یا مایوس کن رکاوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

Naseer Asmad, attock, Urdu articles، آرام پھر کہاں ہے ، جو بے سکوں ہو جائے دل ، اردو آرٹیکلز, HAMID MIR, JAVED CHAUDHRY
NASEER ASMAD URDU ARTICLES

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

 آسودہ      زیر  خاک   نہیں   آشنائے   حرص 

 فرسٹریشن بیریئر یا مایوس کن رکاوٹ، وہ رکاوٹ ہے جو آپ کو نئے خیالات اور تصورات پر کام کرنے ، آزمائش کرنے اور اپنے آرام کے علاقے سے باہر جانے سے روکتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو آپ کو بہت جلد عمل سے دور ہونے کی طرف متوجہ کرتا ہے جب آپ کسی مقصد کے حصول میں ناکام ہوجاتے ہیں۔فرسٹریشن بیریئر عام طور پر عارضی ہوتا ہے۔ ایک بار جب آپ رکاوٹ کو توڑ دیتے ہیں تو ، آپ حقیقت میں سیکھنے کے عمل سے لطف اندوز ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس عمل سے تفریح حاصل کرتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس رکاوٹ کو توڑنے سے آپ کو ذاتی ترقی کے ایک بہت بڑے مواقع تک رسائی مل جاتی ہے۔


سفر میں کوئی رکاوٹ نہیں گدا کے لئے
کھلا ہوا ہے ہر اک راستہ  ہوا کے لئے
یہ پوچھتی ہے ہر اک صبح آ کے موج نسیم
کوئی   پیام   کسی  یار   آشنا  کے لئے

ایسی خصوصیت جو کامیاب لوگوں کو ناکام لوگوں سے جدا کرتی ہے تو یہ اس رکاوٹ کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ ناکام افراد وہ ہوتے ہیں جو بہت جلدہمت اور حوصلہ ہار جانے والے ہوتے ہیں اور جلد ہی اپنے عمل سے دستبردار ہوجانے والے ہوتے ہیں ، کامیاب لوگ رکاوٹ کو توڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں نئی چیزیں سیکھنے اوراور نئی مہارتیں حاصل کرتے ہیں اور ان کے فوائد سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ایسے لوگ عام طور پر انسان کی حیثیت سے ذہنی طورپر بہت زیادہ "ترقی یافتہ" شمارہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بہت زیادہ متنوع تجربات ہوتے ہیں جن سے وہ اپنی زندگی میں استفادہ کرسکتے ہیں۔

کسی کام میں ابتدائی رکاوٹ کو کم کرنے کیلئے ضروری ہے اس کام کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں۔ اگر آپکوئی کام کرنے کا میں بے چینی یا دقّت محسوس کرتے ہیں تو اس بارے میں مواد حاصل کریں۔ اگر آپ خود اپنا کاروبار شروع کررہے ہیں تو کاروبارکے بارے میں معلومات اکھٹی کریں۔ آپ دوسرے لوگوں یا تاجروں سے بھی رہنمائی لے سکتے ہیں اور ان سے ان کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کو کوئی کام کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے ۔ خاص طور پر کوئی ایسا کام جو آپ کے آرام کے علاقے سے باہر ہو ، تو اپنے پہلے مراحل کو اتنا آسان بنائیں کہ آپ کو اپنے کام میں کوئی نفسیاتی رکاوٹ یا پریشانی محسوس نہ ہو۔ مثال کے طور پر ، اگر آپ ورزش کرنا شروع کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک آدھے گھنٹے کے لئے جم میں جانے کے لئے اپنا پہلا قدم اُٹھائیں۔آہستہ آہستہ اپنے معمولات کو بہتر سے بہتر کرتے جائیں۔ ایک بار جب آپ مایوس کن رکاوٹ کے مرحلے سے گزر جاتے ہیں تو پھرپ کیلئے بہت آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر آپ اس مرحلے کو عبور کرنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں ، تو پھرآپ آہستہ آہستہ اپنے معمولات اور محنت بڑھاتے جائیں۔اس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی سوچ کے رُخ کوآہستہ آہستہ تبدیل کرتے جاتے ہیں جو فرسٹریشن رکاوٹ کو پیدا کرنے کا سبب ہوتی ہے۔ اس طرح فرسٹریشن بیریئر کے مسئلے کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی کام یا کسی معاملے میں آگے بڑھنے کیلئے فرسٹریشن رکاوٹ کو عبور کرنا کامیابی کی طرف ایک مثبت قدم شمار ہوتا ہے۔