زندگی میں حالات، ہمیشہ ہمارے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتے
کیاآپ کو کبھی ایسا لگتا ہے کہ آپ کی پوری کوشش کے باوجود حالات اُس رخ نہیں چلتے جس طرح آپ نے منصوبہ بندی کی ہوتی ہے۔ کیوں کہ بعض اوقات ا یسا ہوتاہے کہ آپ ترقی کی طرف گامزن ہوتے ہیں کہ اچانک سب کچھ الٹ ہو جاتا ہے اور حالات بدل جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ اپنے آپ کو شکست خوردہ محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ زندگی کی ایک نہ جھٹلاسکنے والی حقیقت ہے کہ منصوبہ بندی ، حکمت عملی بنانے اور محتاط رہنے میں اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں یا حالات اُلٹ رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ایسی صورت میں ایک ہی چیز ہمارے کام آتی ہے کہ ہم ہمت نہ ہاریں۔ یہ چیز ہمارے ذہنوں میں اچھی طرح راسخ ہونی چاہئیے۔ ہمیں اپنی زندگی میں ہر قسم کے حالات و واقعات کیلئے تیار رہنا چاہیے کہ زندگی میں خوشگوارادوار بھی آتے ہیںاور سخت حالات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ جگر مرادآبادی کا کہنا ہے:
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
زندگی میں حالات، ہمیشہ ہمارے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتے۔ جب حالات اور معاملات ہمارے مطابق نہیں چل رہے ہوتے تومایوس ہونا ایک فطری عمل ہوتا ہے۔معاملات اُلٹ رخ اختیار کرلیتے ہیں لیکن یہ طے کرنا آپ کا کام ہے کہ شاکس یا دھچکے کے بعدآپ کے ردِعمل کا کیا رُخ ہے۔ جب ناکامیوں سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو اس میں دو اقسام کی بنیادی سوچ موجود ہوتی ہے۔ ایک مایوسی کی ذہنیت ہے اور دوسری امید پسند۔ کچھ لوگ ناکامیوں اور مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنے اوپر مایوسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔کامیابی ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو زندگی میں آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا جانتے ہوں۔ محشربدایونی اس بات کو کچھ اس انداز سے بیان کرتے ہیں:
اب ہوائیں ہی کری ں گی روشنی کا فیصلہ
جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
جب زندگی میں مایوس کُن حالات کا سامنا ہوتا ہے توامید پسند سوچ رکھنے والافرد وقتی طور پر ایک عارضی شاک یا دھچکا محسوس کرے گا َ۔ جبکہ مایوسی کی ذہنیت رکھنے والا شخص اسے مستقل عمل کے طورپر دیکھے گا۔ کبھی بھی وقتی یاعارضی حالات کی بنیاد پر مستقل فیصلے نہیں لینے چاہئیں۔مایوس ذہنیت والا، مسئلے کو سمجھنے کی بجائے ، اسے ناقابل تسخیر اور ایک مستقل عمل کے طور پر دیکھتا ہے۔ جبکہ ایک خوش خیال انسان کسی برے واقعے اور اس کے اثرات کو الگ تھلگ سمجھنے اور تجزیہ کرنے کے قابل ہوتا ہے ہے اور اپنی زندگی کو اس سے متاثر نہیں ہونے دیتا۔
مایوس افراد کسی دھچکے یا شاکس کو ایک اپنی داخلی یا ذاتی وجہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک واقعات کا ایک خراب موڑ ان کے اپنے افعال میں کسی نقص یا غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ اسی اپنی کمی یا کوتاہی گردانتے ہیںاور اپنے آپ کو موردِالزام ٹھہراتے ہوئے مایوسی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ جبکہ خوش خیال انسان، صحت مندانہ نظریہ اختیار کرتا ہے کہ ضروری نہیں کہ واقعہ ان کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو ا ہو بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیںیہ بیرونی عوامل کی وجہ سے ہے ۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ شاید جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکنے کے لئے وہ ذاتی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم اپنی غلطیوں سے ہمیشہ سیکھنے کی ضرورت رہتی ہے ۔خود کو پریشانیوں اور ناکامیوں سے دور رکھنا سیکھ لینا ایک ایسی مہارت ہے جو کامیابی اور آپ کے خوابوں کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اگر آپ خود کو پریشانی کا حصہ سمجھتے ہیں تو آپ آسانی سے آپ شاکس پر قابو نہیں پاسکیں گے۔پریشانی پر آپ اس صورت میں قابو پاسکتے ہیں جب آپ اسے اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ امیدپسند شخص کو نتائج اپنے ذہن کے حساب سے دیکھنے کی صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب معاملات غلط رُخ اختیار کرلیتے ہیں تو آپ کا رویہ واقعہ کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوتا ہے اور یہی فیصلہ کرتا ہے کہ آپ نے اُمید کا راستہ منتخب کیا ہے یا مایوسی کا۔ آپ کی زندگی کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن کا جھکاﺅ اُمید کی طرف ہے یا مایوسی کی طرف ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا ان کی اصلاح کی طرف پہلا قدم ہے۔ ایک مثبت رویہ سیکھنا اور اپنے آپ کو حالات کے مطابق تیار کرنا چاہئیے۔ مثبت روّیے کامیابی کی بنیاد ہیں اور زندگی میں کامیابیاں حوصلے بلند کرنے کا سبب ہوتی ہیں۔ بقول ماہرالقادری:
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
جب حوصلے بلند ہوتے ہیں تو مشکلات کا مقابلہ کرنا آسان ہوجاتاہے کیونکہ بلند حوصلہ انسان کے اندر مثبت ذہنی کیفیات پیدا کرتا ہے۔






Naseer Asmad Urdu Articles
جواب دیںحذف کریںhttps://awazejars.blogspot.com